مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، منوچہر متکی نے بین الپارلیمانی یونین (IPU) کے 153ویں اجلاس کی جنرل اسمبلی میں تنزانیہ کی پارلیمنٹ، حکومت اور عوام کی جانب سے مہمان نوازی اور اس اجلاس کے کامیاب انعقاد پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ آج ۷ اکتوبر ہے، جو ان عوام کے قیام کی یاد دلاتا ہے جو اپنی سرزمین میں صیہونیوں کے ظلم سے تنگ آچکے تھے اور غزہ کی جیلوں میں بتدریج موت کو قبول نہیں کیا۔ ہم غزہ کے 76 ہزار سے زائد شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور اسرائیل کے جرائم کے 130 ہزار زخمیوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مطلوب حکمرانی، شمولیت، اعتماد اور مواقع، ایک ہی حقیقت کے چار مظاہر ہیں؛ انسانوں کی عزت و کرامت اس بات سے وابستہ ہے کہ ان کی آواز سنی جائے اور انہیں اپنا مستقبل بنانے کا موقع حاصل ہو۔ مغربی ایشیاء کے خطے کے عوام، ایران اور فلسطین سے لے کر شام اور لبنان تک، ایک جدید نسل پرست حکومت کی جنگ پسندی کا شکار ہیں۔ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے ایک جارحانہ اقدام کے ذریعے میرے ملک پر جنگ مسلط کردی۔ ایران نے اقوامِ متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 میں درج اپنے فطری حقِ دفاع کا استعمال کیا اور بھاری نقصانات برداشت کرنے کے باوجود جارحین کو ناقابلِ فراموش اسباق سکھائے۔
متکی نے اس کے بعد اجلاس میں شریک پارلیمانوں کے نمائندوں کو شہید رہبر اور ان کی 14 ماہ کی شہید نواسی کی تصویر دکھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے عظیم رہبر اور ہمارے ہزاروں شہریوں کو شہید کیا اور شہری بنیادی ڈھانچے، جن میں 80 ہزار سے زائد عمارتیں، بشمول اسپتال، اسکول، جامعات اور ہلال احمر کے مراکز شامل ہیں، کو بے رحمی سے نشانہ بنایا۔
ایرانی پارلیمانی وفد کے سربراہ نے امریکہ کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں، بشمول میناب کے اسکول کے شہداء کی تصاویر بھی دکھائیں اور کہا کہ جارحیت کے پہلے ہی روز امریکہ نے تاما ہاک میزائلوں سے صوبۂ ہرمزگان کے شہر میناب میں شجرہ طیبہ گرلز پرائمری اسکول پر حملہ کیا اور 168 طلبہ، اساتذہ اور اسکول کے عملے کو شہید کردیا۔بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ، ان کا گناہ کیا تھا؟
انہوں نے اس جارحیت کے دوران پیش آنے والے ایک اور تلخ سانحے کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ اسی روز صوبۂ ہرمزگان کے لامرد میں جارحین نے ایک ثقافتی اور اسپورٹس کمپلیکس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 120 سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔ یکم ستمبر کی رات امریکہ نے صوبۂ ہرمزگان کے کوہستک میں ایک شادی کی تقریب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہاں موجود 70 سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔
ایرانی پارلیمانی وفد کے سربراہ نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کے نمائندے کی حیثیت سے میں یہیں سے امریکی عوام سے کہتا ہوں کہ آپ کا ملک امریکی تاریخ کے احمق ترین صدور میں سے ایک کا تجربہ کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے لیے جنگ، جارحانہ مداخلت، اقوام کی دولت کی چوری اور کینیڈا اور گرین لینڈ سے لے کر لاطینی امریکہ اور ایشیا تک دوسروں کی سرزمین پر قبضے کی دھمکیوں کو تحفے میں دیا ہے۔ وہ ایپسٹین کے بارے میں انکشافات کے خوف سے ایک اور جلاد، نیتن یاہو، کے جال میں پھنس گیا ہے اور ان جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔
متکی نے امریکی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم آپ سے توقع رکھتی ہے کہ آپ اپنے ضمیر کی آواز کا جواب دیں گے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور امریکہ و اسرائیلی حکومت کی فوجی جارحیت کی مذمت کریں گے۔
ایرانی پارلیمنٹ میں بین الپارلیمانی یونین (IPU) کی ایگزیکٹو کونسل کے سربراہ نے تاکید کی کہ ایران کی عدلیہ ان مجرموں کے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے جنہوں نے جنرل قاسم سلیمانی، سائنس دانوں اور فوجی کمانڈروں، ہزاروں شہریوں اور اسلامی جمہوریہ کے اعلیٰ سیاسی و مذہبی رہنما حضرت امام خامنہ ای کو شہید کیا اور عنقریب ان کے قصاص کا حکم جاری کیا جائے گا۔ یہ حکم ایران کے نئے رہبر آیت الله سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کی ہدایت کے مطابق دنیا کے آزاد انسانوں کے ذریعے نافذ کیا جائے گا۔
ایران کے پارلیمانی وفد کے سربراہ نے آخر میں ایران کے ہمسایہ ممالک سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ہم اپنے ہمسایوں سے کہتے ہیں کہ ہمیں محتاط رہنا چاہیے کہ جنگ بھڑکانے والوں کی خواہش کے تحت علاقائی سیاسی کشیدگی، جنگ کے بعد کے دور میں تباہ کن فوجی جنگ کی جگہ نہ لے؛ البتہ اسلامی جمہوریہ ایران یقینی طور پر ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
آپ کا تبصرہ